تعارف | Introduction
یہ افسانہ احمد ندیم قاسمی کے ادبی اسلوب میں لکھی گئی ایک محبت کی داستان ہے۔ تقسیم ہند کے المیے کے پس منظر میں، یہ کہانی سکینہ اور عظیم کی ایسی محبت بیان کرتی ہے جو سرحدوں، فاصلوں اور وقت کی دیواروں کو پھاند کر پینتیس برس بعد اپنی منزل پاتی ہے۔ وفا، انتظار اور ایمان کی یہ کہانی ہر اس قاری کو متاثر کرے گی جو سچی محبت کی قدر و قیمت جانتا ہے۔
This short story (afsana) is written in the literary style of the legendary Urdu writer Ahmad Nadeem Qasmi. Set against the backdrop of the Partition of India, it narrates the tale of Sakeena and Azeem. A love that crosses borders, distances, and the walls of time to reunite after thirty-five years. This story of loyalty, patience, and faith will touch the heart of every reader who understands the true value of love.
بچھڑے ہوئے
وہ شام بھی کیسی عجیب شام تھی۔ آسمان پر سرخی کے دھبے پھیل رہے تھے اور حویلی کی بالائی منزل سے شہر کی گلیاں ایسے دکھائی دیتی تھیں جیسے کسی نے سنہری دھاگوں سے بنا ہوا جال بچھا دیا ہو۔
سکینہ کھڑکی کے پاس کھڑی تھی، اور اس کی آنکھوں میں وہی پرانی تڑپ تھی جو برسوں سے اس کے سینے میں جلتی آئی تھی۔
“آج پھر نہ آیا۔” اس نے آہستہ سے کہا، اور اپنی چادر کا پلو سنبھالا۔
ننھی، جو برسوں سے اس کی خدمت میں لگی تھی، پاس آ کر بیٹھ گئی۔ “بی بی، اب تو بھول جاؤ۔ کتنے برس ہو گئے؟”
“پینتیس برس۔” سکینہ نے بے ساختہ جواب دیا، جیسے یہ تعداد اس کی زبان پر ہر وقت رہتی ہو۔
ننھی نے سر ہلایا۔ وہ جانتی تھی کہ کچھ کہنا بیکار ہے۔
سکینہ کو وہ دن یاد آیا جب عظیم پہلی بار اس حویلی میں آیا تھا۔ وہ اس وقت سولہ برس کی تھی اور عظیم اٹھارہ کا۔ والد صاحب نے دونوں کی منگنی کر دی تھی۔ دونوں خاندان پرانے رفیق تھے۔
“میں تمہیں بہت محبت کروں گا، سکینہ۔” عظیم نے ایک دن آم کے باغ میں چپکے سے کہا تھا۔ “جتنی محفوظ تم اس حویلی میں ہو، اس سے زیادہ میرے دل میں ہوگی۔”
وہ ہنس پڑی تھی۔ شرم سے اس کے گال سرخ ہو گئے تھے۔
لیکن پھر وہ بلا آ گئی۔ ملک میں فسادات شروع ہو گئے۔ شہر میں آگ لگ گئی، خون بہنے لگا۔ عظیم کا خاندان رات کی تاریکی میں شہر چھوڑ گیا۔ کہتے ہیں وہ سرحد پار چلے گئے۔
“میں واپس آؤں گا، سکینہ۔ تمہارے لیے ضرور آؤں گا۔” عظیم نے آخری بار جب اسے دیکھا تھا، یہی کہا تھا۔
اور پھر؟
پھر برسوں گزر گئے۔ خطوط آنا بند ہو گئے۔ قاصد بھی راستے بھول گئے۔ سرحدیں دیواریں بن گئیں۔
سکینہ کے گھر والوں نے دوسرے رشتے بھیجے، لیکن وہ نہ مانی۔ “میں نے اس سے وعدہ کیا ہے۔” اس نے سر اٹھا کر کہا۔ “اور میں انتظار کروں گی۔”
لوگوں نے کہا، “پاگل ہے۔”
لیکن سکینہ کو کوئی فرق نہ پڑا۔
اب وہ اکیاون برس کی تھی۔ بال سفید ہو چکے تھے۔ چہرے پر شکنیں پڑ گئی تھیں۔ لیکن آنکھوں میں اب بھی وہی چمک تھی جو سولہ برس کی لڑکی میں ہوا کرتی تھی۔
“بی بی، چائے لے آؤں?” ننھی نے پوچھا۔
“ہاں، لے آ۔” سکینہ نے کہا اور پھر کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔
گلی میں ایک بوڑھا آدمی چلا آ رہا تھا۔ لاٹھی کے سہارے، دھیرے دھیرے۔ اس کی کمر جھکی ہوئی تھی، بال سفید تھے۔
وہ حویلی کے دروازے کے سامنے رک گیا۔
سکینہ کا دل زور سے دھڑکا۔
بوڑھے نے سر اٹھایا اور اوپر دیکھا۔ ان کی نظریں ملیں۔
ایک لمحے کے لیے دنیا تھم گئی۔
“سکینہ۔” بوڑھے کی آواز میں وہی لہجہ تھا جو پینتیس برس پہلے آم کے باغ میں تھا۔
سکینہ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ وہ ہاتھ سے اپنا منہ ڈھانپ کر وہیں بیٹھ گئی۔
“عظیم۔” اس نے سسکیاں بھرتے ہوئے کہا۔ “تم آ گئے۔”
ننھی بھاگتی ہوئی نیچے گئی اور دروازہ کھول دیا۔
عظیم اندر داخل ہوا۔ اس کی آنکھیں بھیگی تھیں۔ “معاف کرنا، بہت دیر ہو گئی۔ سرحدیں… راستے… سب کچھ بدل گیا تھا۔ لیکن میں نے وعدہ کیا تھا، اور میں آ گیا۔”
سکینہ سیڑھیوں سے اترتی ہوئی آئی۔ دونوں ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہو گئے۔
کتنا کچھ بدل گیا تھا۔ چہرے، جسم، عمر… سب کچھ۔
لیکن پھر بھی کچھ نہیں بدلا تھا۔
“تم نے انتظار کیا۔” عظیم نے حیرت سے کہا۔
“میں نے وعدہ کیا تھا۔” سکینہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
اور اس شام، جب سورج ڈوب رہا تھا اور شہر پر سکون چھا رہا تھا، دو بوڑھے لوگ حویلی کی چھت پر بیٹھ کر اپنی کھوئی ہوئی جوانی کی کہانیاں سنانے لگے۔
ننھی نے چائے لا کر رکھ دی، اور آہستہ سے مسکرا دی۔
محبت، اس نے سوچا، وقت نہیں مانگتی۔ وہ صرف ایمان مانگتی ہے۔
اختتام
اختتامیہ | Conclusion
“بچھڑے ہوئے” محض ایک محبت کی کہانی نہیں، بلکہ وفا، صبر اور یقین کا استعارہ ہے۔ یہ افسانہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سچی محبت وقت کی قید میں نہیں آتی، نہ فاصلے اسے کمزور کر سکتے ہیں۔ احمد ندیم قاسمی کے اسلوب میں لکھی گئی یہ کہانی اردو ادب کی اس روایت کو زندہ رکھتی ہے جہاں سادہ الفاظ میں گہرے جذبات بیان کیے جاتے ہیں۔ امید ہے یہ افسانہ آپ کے دل کو چھو گیا ہوگا۔
“Bichray Huye” (The Separated Ones) is not merely a love story, but a metaphor for loyalty, patience, and unwavering faith. This afsana reminds us that true love is not bound by time, nor can distances weaken it. Written in the style of Ahmad Nadeem Qasmi, this story keeps alive the tradition of Urdu literature where profound emotions are expressed through simple words. We hope this story has touched your heart and reminded you of the timeless power of true love.
